Srinagar, Feb 25: Today is the 30th Jummah Mubarak and the last ten days of the holy month of Mehraj-Ul-Alam, the Ascension of the Prophet (SAW) are going on, still the Hindutva BJP-RSS regime IIOJK and its authorities while continuing with their dictatorial attitude did not allow the Muslims of Kashmir to perform important duties like Friday prayers at the largest place of worship in Indian illegally Jammu & Kashmir – the historic central Jama Masjid in Srinagar.
The Anjuman Auqaf Jama Masjid Srinagar in a statement termed this behaviour of the authorities as extremely regrettable and reprehensible and said that on the one hand such acts constantly hurt the religious sentiments of Muslims and on the other hand this attitude amounts to sheer interference in the religious affairs, against which the reaction and anger of the people is increasing day by day.
The Anjuman Auqaf has appealed to the influential religious organisations, Ulemas, Mashaikhs and Imams to raise their voice against the biased attitude of her authorities towards Jama Masjid.
It termed the continuous closure of the central Jama Masjid and keeping the Anjuman head Mirwaiz Umar Farooq under house arrest for more than two and a half years as illegal and immoral. It also expressed hope that the Mirwaiz would be released on the occasion of Mehraj-Ul-Alam so that he can directly convey the universal message of the philosophy of Me’raj-un-Nabi (SAW) through his sermon in the centuries-old-traditional style of the Mirwaizeen to the people of Kashmir.
پریس بیان
آج30 واں جمعتہ المبارک ہے اور ماہ معراج النبیﷺ کا آخری عشرہ چل رہا ہے جبکہ حکام نے اپنی من مانی اور تاناشاہی کا مظاہرہ کرکے کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ اور رشد و ہدایت کے عظیم مرکز جامع مسجد سرینگر کو ایک بار پھر مسلمانان کشمیر کو نماز جمعہ جیسے اہم فریضے کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی
انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے حکام کے اس طرز عمل کوحد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ایک طرف جہاں مسلمانوں کے دینی جذبات کو مسلسل مجروح کرنے کا ناپسندیدہ عمل جاری ہے تو وہاں دوسری طرف یہ رویہ مداخلت فی الدین کے مترادف ہے جس کیخلاف آئے روز عوام کے ردعمل اور غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
انجمن اوقاف نے مقتدر دینی تنظیموں ،علما ، مشائخ اور ائمہ حضرات سے اپیل کی کہ وہ جامع مسجد کے ساتھ روا رکھے گئے جانبدارانہ طرزعمل کیخلاف اپنی آواز بلند کرکے کشمیری عوام کی بے چینی اور اضطراب کو درج کرائیں۔
بیان میں مرکزی جامع مسجد کو بند رکھنے اور سربراہ اوقاف جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو گزشتہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے لگاتار محصور رکھنے کی کارروائی کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ معراج النبی ﷺ کی تقریب کے موقعہ پر موصوف کی رہائی عمل میں لائی جائیگی تاکہ وہ فلسفہ معراج کے انسانیت کے آفاقی پیغام کو عوام الناس خاص طور پر کشمیری عوام تک اپنے صدیوں پرانی روایتی طرز پر وعظ و تبلیغ کے ذریعے براہ راست پہنچا سکیں۔